7 اگست 2011 - 19:30

سعودي عرب نے شام سے اپنا سفير واپس بلا ليا ہےـ

ابنا: اطلاعات کے مطابق سعودي حکومت نے شام ميں عوام کے خلاف حکومت کے مبينہ تشدد پر احتجاج کرتے ہوئے يہ اقدام کيا ہے جبکہ خود سعودي عرب کے فوجي بحرين ميں عوام کي سرکوبي ميں مصروف ہيں ـ


سعودي فرمانروا شاہ عبد اللہ  جنہوں نے بحرين ميں عوام کي سرکوبي لئے اپنے فوجي بھيجے ہيں ايک بيان جاري کرکے کہا ہے کہ شام ميں عوام کے خلاف جاري تشدد ناقابل قبول ہےـ سعودي فرمانروا نے کہا ہے کہ شام کي حکومت کو چاہئے کہ وقت ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے معقول اقدامات کرےـ


شام ميں حکومت مخالف افراد کا کہنا ہے کہ ان پر سيکورٹي فورس کے اہلکار حملے کر تے ہيں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں کي جانب سے يہ حملے انجام پا رہے ہيں ـ


سعودي حکومت نے ايسي حالت ميں شام کي حکومت پر عوام کو کچلنے کا الزام لگايا ہے کہ بحرين ميں سعودي فوجي پر امن مظاہرين پر حملوں اور عوام کي سرکوبي ميں شريک ہيں اور ‎يمن نيز تيونس ميں عوام کے جمہوري مطالبات کو يکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس نے دونوں ملکوں کے آمروں، عبد اللہ صالح اور زين العابدين بن علي کو پناہ دے رکھي ہے.
.............

/169